Sometimes I have thought that it would be an excellent rule to live each day as if we should die tomorrow. Such an attitude would sharply emphasize the values of life. We should live each day with gentleness, vigour, and a keenness of appreciation which is often lost when time stretches before us in the constant panorama of more days and months and years to come. There are those, of course, who would adopt the epicurean motto of "eat, drink, and be merry" but most people would be chastened by the certainty of impending death.

کبھی کبھی میں نے سوچا کہ یہ ایک اچھی حکمرانی ہوگی کہ اگر ہمیں پتا ہو کہ کل ہم نے مر جانا ہے۔ اس طرح کا رویہ تیزی سے زندگی کی قدر کو واضح کردے گا۔ ہمیں ہر دل کو نرم مزاجی، حوصلہ افزائی اور تعریف کی خواہش پر گزارنا چاہیے۔ یہ اس وقت ضائع ہو جاتا ہے۔ جب وقت ہمارے سامنے دنوں، مہینوں اور مسلسل آنے والے سالوں کی شکل میں پھیلا ہوا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کہ ایپی کیورن کا یہ قول اپنائے ہوئے ہیں کہ "کھاؤ پیو اور خوش رہو" لیکن زیادہ تر لوگ موت کے ضرور آنے کو اپنے اوپر حاوی کیے ہوئے ہیں۔

Sponsored AdsHide Ads