A
Almasha
Jul 13, 2022

On the night of the migration, a tribal chief of the disbelievers, Abu Jehl, in a fit of fury headed towards Hazrat Abu Bakr Siddique's home. He began knocking at the door violently. Addressing Hazrat Asma, he demanded, "Where is your father?" She politely replied, "How would I know?" This response shows the wisdom and courage of Hazrat Asma. She didn't make a statement that would give them a clue. She simply posed a counter question that infuriated Abu Jehl. He slapped Hazrat Asma's face so hard that her earring fell off but she remained steadfast and did not reveal the secret.

Translation

ہجرت کی رات کو کفار مکہ کا سردار ابوجہل، غصے سے بھرا ہوا سیدھا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر جاپہنچا۔ اس نے زور زور سے دروازہ کھٹکھٹانا شروع کر دیا۔ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو مخاطب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تمہارا باپ کہاں ہے؟ آپ نے نرم لہجے میں جواب دیا "مجھے  کیا علم ہوگا"۔ اس رویے سے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عقلمندی اور حوصلہ ظاہر ہوتا ہے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایسی کوئی بات نہیں کی جس سے اس کو کوئی اشارہ ملتا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سوال کے بدلے سوال کردیا جس سے ابوجہل کو مزید غصہ آگیا۔ اس نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے چہرے پر اس قدر زور دار تھپڑ مارا کے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے کان کی بالی نیچے گر گئی لیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ثابت قدم رہیں اور راز فاش نہیں کیا۔

Category: Translation